تان مسئلہ کیا ہے ؟ ” تحریر : رزاق سربازی مجاہد بریلوی کون ہیں ؟ میرے حافظہ میں دو مختلف شخصیات کا اندراج ہوا ہے ۔ پہلا اندراج میں نے کتابیں دیکھ کر کیا۔ کراچی صدر کی زینب مارکیٹ کے عقب میں ًپنوراما سینٹر ًً کے نام سے ایک شاپنگ مال قائم ہے ۔ منزل مجھے ٹھیک اب یاد نہیں شاید دوسری یا تیسری منزل پر ایک بک شاپ ہوا کرتی تھی جہاں افغان ثور انقلاب کی حمایت میں پرجوش کتابوں کے ڈھیر لگے ہوتے تھے ۔ جن میں خوشحالی کا باتصویر تذکرہ ہر صفحہ پر پھیلا ہوا ہوتا تھا ۔جن دوستوں کے توسط اس بک شاپ کو جاننے کا موقع ملا ؛ ان ہی سے معلوم ہوا ؛ اس بک شاپ کے مالک مجاہد بریلوی ہیں ۔ کتابیں افغان ثور انقلاب کی حمایت میں تھیں جن سے مجھے مجاہد بریلوی کو سمجھنے میں آسانی ہوئی —– البتہ جب ہم ان کی بک شاپ ؛کتابیں دیکھنے گئے ؛ اس وقت وہ خود وہاں موجود نہیں تھے —— کہ وہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے مجاہد ہیں جو سامراجی پروپیگنڈے کیخلاف انقلاب کا دفاع کررہے ہیں ۔ دوسرا اندراج میں نے ؛ کافی عرصے بعد ؛ ً مغرب اور بنیاد پرستی ً پر ان کو سن کر کیا ۔ بنیاد پرستی کیا ہے؟ بنیاد پرستی کیا نہیں ہے ؟ تاریخ دانوں نے اس پر کافی کچھ لکھا ہے ۔ مغرب نے بنیاد پرستی کو پروان چڑھانے میں کتنا حصہ ڈالا ۔ اس سوال کو سمجھے بغیر تیز رفتار سیاسی حادثات و واقعات کو سمجھنا مشکل ہوگیا ہے ۔ مغرب کی ثروت مندی کی سیاسی ضروریات میں مشرقی بنیاد پرستی بھی شامل ہے۔ پیدل گھومنے پھرنے والے جمال الدین افغانی برطانوی سیکرٹ فنڈ سے پین اسلام کا خواب پھیلاتے رہے ۔ اسامہ کی —– کاروباری و سیاسی —— رشتہ داری امریکہ سے گہری رہی۔ تعلقات کا پیچیدہ نظام قائم ہے ۔ خاندانی و قبائلی رشتہ داریاں مقامی ہوتی ہیں اور یہ علاقائی و بین الاقوامی —— بہرحال بہت سارے لوگ ان رشتوں و تعلق داری کو سمجھتے ہیں —— خبر اور معلومات کو روکنا ممکن نہیں رہا ۔ “ مغرب نے تمہیں عدالتی نظام دیا ۔پارلیمان دی۔ حیر بیار مری اور براہمداخ بگٹی کو پناہ دی اگر وہ آج کسی اسلامی ملک میں پناہ لئے ہوتے تو ان کو پاکستان کے حوالے کردیا جاتا “ یہ مجاہد بریلوی کا مجھے جواب تھا ۔ بلوچستان میں آپریشن کرنے پر جنرل مشرف کی پشت پناہی بھی مغرب نے کی؛ نواب اکبر بگٹی کو قتل کرنے پر جنرل مشرف کو مغرب کی حمایت حاصل تھی؛ جو آج بھی ان کو پناہ دیئے ہوئے ہے ۔ مغرب پر میرے یہ الفاظ مجاہد بریلوی کو اچھے نہیں لگے اور انہوں نے فون بند کردیا تھا ( وش نیوز کی ریکارڈنگ دیکھی جاسکتی ہے ؛ اگر احمد اقبال دیانت داری سے ریکارڈنگ تک رسائی دیں جس کی امید بہت کم ہے ۔ ) مجاہد عالمی سیاست میں اب مغرب ہی کو مانتے ہیں۔ پاکستان کی سطح پر ہنوز وہ کسی کے نمائندہ نہیں ۔ جماعت اسلامی ، ایم کیو ایم و دیگر جماعتوں کو ان کی خدمات مطلوب نہیں اور وہ مقام کی تلاش میں ہیں ۔ مجاہد بریلوی کی کتاب ً بلوچستان مسئلہ کیا ہے ؟ ً افغان ثور انقلاب کے پرجوش زمانے کی کتابوں کا حصہ ہے ۔ جس کا سال اشاعت 1984 درج ہے ۔اٹھائیس سال بعد اس کی ً گرد جھاڑی ۔۔۔ بلوچستان کے مسئلے کے حوالے سے ایک مقدمہ لکھا اور یوں کتاب کا یہ دوسرا ایڈیشن ۔۔۔۔۔ حاضر کردیا ۔ کتاب پر بولنے والوں میں میاں رضا ربانی ، حاصل بزنجو ، لشکری رئیسانی ، طاہر بزنجو ، نادر لغاری ، حیدر عباس عباس رضوی ، حبیب حسن ، صادق عمرانی ، اور ظفر ہلالی شامل تھے ۔دھیمے لہجے میں گفتگو کرنے والے طاہر بزنجو واحد مقرر تھے جو کتاب کے مندرجات سے آگاہ تھے ۔ اسٹیج پر بیٹھے بولنے والے رہنما دوران تقریب کتاب کے صفحات الٹ پلٹ کر بولنے کیلئے مطلوبہ مواد تلاش کررہے تھے ۔ کوئی نئی بات —- نہیں کسی نے نئی بات نہیںکہی —- سب ہی ایک ہٹ دھرم مائنڈ سیٹ کا اپنے اپنے الفاظ میں ذکر کرتے رہے ۔ ایک ایسا مائنڈ سیٹ جو خراب کاری کرگزرتا ہے۔ یہ مائنڈ سیٹ نظر نہیں آتا لیکن ہر جگہ موجود ہے۔وہ طاقت ور ہے۔سب اس کے سامنے کمزور ہیں ۔ آج تک اس نے کسی کی نہیں سنی لیکن تاحال سب ہی اسی سے مطالبے کررہے ہیں۔ً بلوچستان مسئلہ کیا ہے ؟ ً کی تقریب رونمائی میں بھی مقررین سرد و گرم مطالبات اسی مائنڈ سیٹ سے کررہے تھے اور وہ سنتا نہیں۔ بنگلہ دیش کا ذکر ہوا؛ اقتصادی بدحالی کا ذکر ہوا۔ نیوز ایجنڈے پر سرفہرست تمام خبروں کا سخت و نرم الفاظ میں بیان سننے کو ملا ۔ مشکے آپریشن کی خبر پر سننے کو کچھ نہ ملا۔صحافیوں کی محفل میں بلوچستان سخن تھا لیکن ایک بڑی خبر سے سب ہی ناآگاہ تھے ۔ہوسکتا ہے ان کو مشکے آپریشن کا علم نہیں تھا کیونکہ صحافی عام لوگوں کی نسبت جھلسا دینے والی خبروں سے زیادہ دور بھاگتے ہیں۔ ان کی دلچسپی زیادہ ان خبروں میں ہوتی ہے جن کو مین اسٹریم کے صفحات یا اسکرینز پر جگہ مل پاتی ہے۔ گفتگو کرنے والے اولین لوگوں میں طاہر بزنجو شامل تھے۔ انہوں نے مشکے آپریشن کی مذمت کرتے ہوئے شرکاء و مقررین کو آگاہ کیا کہ ہم یہاں بیٹھے ہیں تو ان ہی لمحات میں ایک بڑی خبر میڈیا کی آنکھوں سے اوجھل ہے۔ مشکے محاصرے میں ہے۔ مشکے میںگھروں کو بزور جبر جلایا جارہا ہے؛ زندہ لوگوںکو گرفتاری کے بعد لاشوں میںتبدیل کیا جارہا ہے ۔ مشکے آپریشن پر اور کوئی نہ بولا ۔ جو ؛ جو کچھ یاد کرکے آیا تھا وہی کچھ بولا۔ پرانی باتیں تھیں ۔رضا ربانی نے بلوچستان کے حالات ؛ آغاز حقوق بلوچستان پیکج ؛پارلیمان کی بالادستی ؛18 ویں ترمیم پر بات کی اور ایک طویل جدوجہد سے حالات میں بہتری پیدا کرنے کا امکان ظاہر کیا۔حاصل بزنجو نے نشاندہی کی : جب بھی بلوچستان میں بندوق چلی؛ بلوچستان کو سنا گیا ۔ آپ سارا لٹریچر اور مواد اٹھا کر دیکھ لیں : لشکری رئیسانی نے بلوچستان میں پاکستانی جھنڈا نہ لہرانے دینے کو جرم قرار دیا : وہ بھی مجرم ہیں جو جھنڈا لگا کر ریلوے کو تباہ کررہے ہیں ؛اداروں کو تباہی میںدھکیل رہے ہیں ً لشکری رئیسانی نے کہا۔ ً بلوچستان مسئلہ کیا ہے ؟ ً مجاہد بریلوی کی کتاب کو ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے ایک طاہرانہ نگاہ قرار دیا اور بلوچستان مسئلہ کو صوبائی خودمختاری کے فریم میں حل کرنے کی راہ دیکھی۔ لیاری ریسورس سینٹر کے سربراہ حبیب حسن نے بلوچستان مسئلہ اور لیاری کے تعلق پر گفتگو کی۔ تحریک انصاف سندھ کے صدر نادر لغاری بلوچوں کی آبادی پر بولے ۔حالات پر ان کے پاس کچھ روایتی سامان بھی نہیں تھا ۔صحافی ظفر ہلالی اپنی مختصر گفتگو میں مطالبہ کرگئے : ً ہمیں بتاؤ ؛ ہم صحافی لکھیںگے ،ً جیسے بلوچوں اور صحافیوںکا رشتہ گاہک و دکانداروں جیسا ہے

Image

azad balochistan

The protest of families of abducted Baloch entered 1062 days as a whole and 82 Day in Karachi on Tuesday.

Delegations of Civil Society Lawyers and people from all spheres of life have continuously been visiting the VBMP’s protest camp to express their solidarity with families of abducted Baloch at Karachi Press Club.

Talking to a delegation the Vice-Chairman of Voice for Baloch Missing Persons Mama Qadeer Baloch said a UN convention which is unknown as ‘Convention against Torture and Other Cruel, Inhuman or Degrading Treatment or Punishment’. The UN General Assembly adopted this convention on 10 December 1984, and it was entered into force on 26 June 1987. The convention obliges States to make torture a crime and to prosecute and punish those guilty of it. It notes explicitly that neither higher orders nor exceptional circumstances can justify torture.

Qadeer Baloch said this document was totally ineffective in Balochistan despite the fact Pakistan signed this convention on 17 April 2008. He added, “Two years later on 3 June Pakistan has fist violated this document when it killed Boland Khan Baloch under torture and dumped in body on 3, June 2010 in a Dasht area of Mastung, Balochistan. Boland Khan was abducted five days before his murder from Quetta by secret agencies of Pakistan.”

He said, “VBMP believes Pakistan is strongly violating the international instrument and laws in Balochistan. Such a document holds no importance until it forcefully implemented. Pakistan intelligence agencies have been committing atrocities in Balochistan with impunity.”

 The protest of families of abducted Baloch entered 1062 days as a whole and 82 Day in Karachi on Tuesday.  Delegations of Civil Society Lawyers and people from all spheres of life have continuously been visiting the VBMP’s protest camp to express their solidarity with families of abducted Baloch at Karachi Press Club.  Talking to a delegation the Vice-Chairman of Voice for Baloch Missing Persons Mama Qadeer Baloch said a UN convention which is unknown as ‘Convention against Torture and Other Cruel, Inhuman or Degrading Treatment or Punishment’. The UN General Assembly adopted this convention on 10 December 1984, and it was entered into force on 26 June 1987. The convention obliges States to make torture a crime and to prosecute and punish those guilty of it. It notes explicitly that neither higher orders nor exceptional circumstances can justify torture.  Qadeer Baloch said this document was totally ineffective in Balochistan despite the fact Pakistan signed this convention on 17 April 2008. He added, “Two years later on 3 June Pakistan has fist violated this document when it killed Boland Khan Baloch under torture and dumped in body on 3, June 2010 in a Dasht area of Mastung, Balochistan. Boland Khan was abducted five days before his murder from Quetta by secret agencies of Pakistan.”  He said, “VBMP believes Pakistan is strongly violating the international instrument and laws in Balochistan. Such a document holds no importance until it forcefully implemented. Pakistan intelligence agencies have been committing atrocities in Balochistan with impunity.”


The protest of families of abducted Baloch entered 1062 days as a whole and 82 Day in Karachi on Tuesday.
Delegations of Civil Society Lawyers and people from all spheres of life have continuously been visiting the VBMP’s protest camp to express their solidarity with families of abducted Baloch at Karachi Press Club.
Talking to a delegation the Vice-Chairman of Voice for Baloch Missing Persons Mama Qadeer Baloch said a UN convention which is unknown as ‘Convention against Torture and Other Cruel, Inhuman or Degrading Treatment or Punishment’. The UN General Assembly adopted this convention on 10 December 1984, and it was entered into force on 26 June 1987. The convention obliges States to make torture a crime and to prosecute and punish those guilty of it. It notes explicitly that neither higher orders nor exceptional circumstances can justify torture.
Qadeer Baloch said this document was totally ineffective in Balochistan despite the fact Pakistan signed this convention on 17 April 2008. He added, “Two years later on 3 June Pakistan has fist violated this document when it killed Boland Khan Baloch under torture and dumped in body on 3, June 2010 in a Dasht area of Mastung, Balochistan. Boland Khan was abducted five days before his murder from Quetta by secret agencies of Pakistan.”
He said, “VBMP believes Pakistan is strongly violating the international instrument and laws in Balochistan. Such a document holds no importance until it forcefully implemented. Pakistan intelligence agencies have been committing atrocities in Balochistan with impunity.”